دلّی کے ایک چٹورے نے دوسرے سے کہا:
بھائی سبطین!
سنا ہے بھائی عارفین نہاری کی دیگ میں گر کر مر گئے؟
ہاں سنا تو ہم نے بھی ہے
کیا گرتے ہی مر گئے؟
نہیں تو۔
دو دفعہ باہر نکلے تھے۔
ایک دفعہ ادرک لینے
اور
دوسری دفعہ نیمبو کے لئے

⁧مشتاق احمد یوسفی

@Sabawaheed مہاجروں کامذاق آڑا رہی ہو۔ بھائ خواب میں آہیں گے۔
@AKRizvi hum to khud muhajir hain janab, mazak kaisey urha saktey.. hum to ap ko yahan dekh ke khush hain
@Sabawaheed سچ پے۔ ہم بھیا تم بجیا۔